Browsing Tag

پروین شاکر

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح

شاعرہ : پروین شاکر گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے…