’بچوں کے اغوا، ریپ اور قتل کے پیچھے بظاہر ایک ہی شخص‘

قصور میں جنسی تشدد کے واقعات کے پیچھے بظاہر ایک ہی شخص ملوث لگتا ہے: پولیس

0 110

صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں 8 سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کرنے کے واقعے میں لڑکی کی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوگئی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز لڑکی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد لڑکی کی لاش کو ورثاء کے حوالے کردیا گیا، جس کی نماز جنازہ لڑکی کے والدین کی عمرے کی ادائیگی سے واپسی کے بعد ادا کی جائے گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قصور میں شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے 8 سالہ بچی کی لاش ملی تھی، جسے ریپ کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

دوسری جانب اس واقعے کے بعد قصور کی فضا سوگوار ہے، ورثاء، تاجروں اور وکلاء کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا اور تاجروں نے مکمل طور پر شٹر ڈاؤن کرکے فیروز پور روڈ کو بلاک کردیا جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن (ڈی بی اے) کی جانب سے بدھ کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ 6 روز قبل جمعرات کو 8 سالہ زینب اپنے گھر کے قریب روڈ کوٹ کے علاقے میں ٹیوشن پڑھنے گئی تھی، جہاں اسے اغوا کرلیا گیا تھا۔

گزشتہ روز لڑکی کی بازیابی کے لیے تعینات کیے گئے ایک پولیس اہلکار کو 8 سالہ زینب کی لاش شہباز خان روڈ پر کچرے کے ڈھیر سے ملی تھی، اس بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ لڑکی کو 4 یا 5 دن پہلے قتل کیا گیا۔

اس واقعے کے حوالے سے ایک سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظر عام پر آئی تھی، جس میں ایک شخص کو لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر لے جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا، تاہم پولیس اس واقعے کے ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام نظر آئی۔

یاد رہے کہ قصور میں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ایک سال میں اس طرح کے 11 واقعات رونما ہوچکے ہیں، جن میں زیادتی کا نشانہ بنائی گئی بچیوں کو اغوا کرنے کے بعد ریپ کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا جبکہ ان تمام بچیوں کی عمریں 5 سے 8 سال کے درمیان تھیں لیکن پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا نوٹس

وزیر اعلیٰ پنجاب نے قصور میں 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی اور قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔
انہوں نے اس حوالے سے انسپکٹر جنرل ( آئی جی) پنجاب پولیس سے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے مقتول بچی کے لواحقین سے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے اور وہ اس کیس پر پیش رفت کی ذاتی طور پر نگرانی کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ معصوم بچی کے قتل کے ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔

علاوہ ازیں وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے اور اس پر لوگوں کا مشتعل ہونا فطری عمل ہے لیکن عوام سے گزارش ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں۔

ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے کی تفتیش جاری ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد حاصل کی گئی ہے اور ملزم جلد گرفتار کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی سی وی فوٹیج لگتا ہے کہ لڑکی ملزم کو جانتی تھی اور یہ شخص متاثرہ خاندان کا قریبی شخص معلوم ہوتا ہے۔

وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو 8 سے 10 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرلیا جائے گا اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا نوٹس

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے قصور میں 8 سالہ زینب کے قتل کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ سیشن جج قصور اور ضلع کے پولیس افسران اس واقعے کی رپورٹ فوری طور لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائیں۔

ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے: آر پی او

ریجنل پولیس افسر (آر پی او) ذوالفقار نے اس واقعے کے حوالے سے بتایا کہ بچی کی موت گلا دبانے سے ہوئی ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بچی کے اہلخانہ اور علاقہ مکینوں نے کیس میں کافی مدد فراہم کی ہے اور ان کی مدد سے سی سی فوٹیجز بھی حاصل کی گئیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچی سے زیادتی اور قتل کے واقعے پر ہر شخص سوگوار ہے، انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے اس بچی کے قتل میں 2 افراد ملوث ہوں تاہم بہت جلد ملزمان قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

واقعے پر مختلف شخصیات کا رد عمل

سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ مجھے امید ہے کہ قصور واقعے کے ملزمان کو کٹھہرے میں لایا جائے گا اور ان کو قرار واقعی سزا دے کر ایک مثال قائم کی جائے گی۔


قصور واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا گیا۔


کرکٹر محمد حفیظ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت والد زینب کے والدین کا درد سمجھ سکتا ہوں، حکومت کو اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کو سخت سزا دینی چاہیے۔

فاسٹ باؤلر وہاب ریاض نے بھی اس واقعے پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ یقین نہیں ہورہا کہ اس طرح کے واقعات ہمارے ملک میں بھی ہوسکتے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ اللہ اس بچی کے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے، بحیثیت والد اس طرح کی خبر سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا۔


پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ایک اور کھلاڑی شعیب ملک نے ٹوئٹ میں کہا کہ ہم کیا بن گئے ہیں، میں کچھ کہنے سے قاصر ہوں۔

loading...
بشکریہ ڈان نیوز
یہ بھی ضرور پڑھیں