امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ اور فوجی تعاون معطل کر دیا: وزیر دفاع

0 27

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی عسکری امداد بند کرنے کے بعد سے امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ اور فوجی تعاون معطل کر دیا گیا ہے۔

ان کی جانب سے یہ بیان حکومتِ پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا ہے۔

خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں اور وہ امن کو قائم رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

رواں ماہ کے آغاز پر امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں نہ کرنے پر اس کی تقریباً تمام سکیورٹی امداد روک رہی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد پاکستانی حکومت کو یہ بتانا ہے کہ اگر وہ امریکہ کے اتحادی نہیں بنتے تو معاملات پہلے کی طرح نہیں رہیں گے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر دفاع نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے ساتھ از سرنو سٹریٹیجگ ڈائلاگ شروع کرے اور پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز رویے سے گریز کرے۔

انھوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ خطے میں سے القاعدہ کو امریکہ کے ساتھ پاکستانی تعاون کی بدولت ہی ختم کیا گیا۔

خیال رہے کہ اس قبل پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کو دیے انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ اتحاد ختم ہو گیا ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’ہمارا امریکہ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی اتحاد نہیں ہے۔ اتحادی اس طرح سے پیش نہیں آتے۔‘

اس سارے معاملے کا آغاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سال نو کے آغاز پر ہی کی جانے والی اس ٹویٹ سے ہوا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔

ان کے اس بیان کے بعد امریکہ نے پاکستان کی عسکری امداد اس وقت تک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ وہ اپنی سرزمین پر حقانی نیٹ ورک سمیت ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتا جن کے خلاف کارروائی کا امریکہ خواہشمند ہے۔

loading...
بشکریہ بی بی سی اردو
یہ بھی ضرور پڑھیں