نائٹ شفٹ میں ملازمت کرنے والی خواتین میں کینسر کا خدشہ

0 104

چینی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ان ملازمت پیشہ خواتین میں کینسر ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، جو طویل وقت تک رات کی ڈیوٹی سر انجام دیتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق حیران کن طور پر سب سے زیادہ خطرہ نرسز اور لیڈی ڈاکٹرز کو ہوتا ہے، جو کئی کئی ماہ تک مسلسل رات کے اوقات میں ڈیوٹی کے فرائض نبھاتی ہیں۔

نائٹ شفٹ میں نوکری کرنے والی خواتین میں مجموعی طور پر دن کے وقت میں ڈیوٹی کرنے والی خواتین کے مقابلے 19 فیصد کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

امریکن ہیلتھ جرنل ’سی ای بی پی‘ میں شائع چین کے صوبے سیچوان کے شہر چینگدو کی ویسٹ چائنا میڈیکل سینٹر آف سچوان یونیورسٹی کے ماہرین کی رپورٹ کے مطابق رات کی شفٹ میں نوکری کرنے والی خواتین میں مختلف قسم کے کینسر پیدا ہونے کے امکانات پائے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ رات کی شفٹ میں ملازمت کرنے والی خواتین میں مجموعی طور پر کینسر بڑھنے کے 19 فیصد امکانات زیادہ پائے گئے، جب کہ ایسی خواتین میں سب سے زیادہ اسکن کینسر ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

ماہرین نے نارتھ امریکا، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیا کے مختلف ممالک کے 11 لاکھ 4 ہزار 628 کیسز کا مطالعہ کیا، ان میں 3 لاکھ سے زائد کیسز نارتھ امریکی ممالک کے تھے۔

ماہرین نے ڈیٹا سے رات کی شفٹ میں کام کرنے والی خواتین اور کینسر کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا۔

طویل مدت تک جائزہ لینے کے بعد ماہرین کو پتہ چلا کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والی خواتین میں 11 اقسام کے کینسر ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

نتائج سے پتہ چلا کہ اگرچہ مجموعی طور پر نائٹ شفٹ میں کام کرنے والی خواتین میں کینسر میں مبتلا ہونے کے 19 فیصد امکانات ہوتے ہیں، تاہم مختلف قسم کے کینسر کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

نائٹ شفٹ میں ملازمت کرنے والی خواتین میں چہرے کا کینسر ہونے کے 41 فیصد، بریسٹ کینسر کے 32 فیصد، معدے کے کینسر کے 18 فیصد، پھیپھڑوں کے کینسر کے 28 فیصد جب کہ آنتوں کے کینسر کے 35 فیصد ہونے کے امکانات پائے گئے۔

اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بتایا گیا تھا کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں نیند کی کمی، ٹھیک طرح سے غذا نہ کھانے اور مختلف اقسام کی روشنیوں کے اثرات سے مختلف بیماریاں پیدا ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔

ماضی میں ہونے والی تحقیقات کےمطابق نائٹ شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں موٹاپے، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن سمیت دیگر امراض میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

loading...
بشکریہ ڈان نیوز
یہ بھی ضرور پڑھیں