لوڈو اسٹار کو گوگل پلے اسٹور سے نکال دیا گیا

0 198

لوڈو اسٹار گیم کو گوگل پلے اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے.

لوڈو اسٹار نہ صرف پاکستان، انڈیا بلکہ عرب ممالک میں بھی بہت مشھور رہا ہے۔

لوڈو اسٹار گیم کھیلنے والے  کچھ دن سے یہ محسوس کر رہے ہونگے کہ اچانک آن لائن گیم کھیلنے والے صارفین کی تعداد کم کیسے ہو رہی ہے، اس کی اصل وجہ ہے لوڈو اسٹار کا پلے اسٹور سے نکال دیا جانا۔

جب کے کہا یہ جارہا ہے کہ لوڈو اسٹار کو گوگل پلے اسٹور کےشرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کے باعث ہٹایا گیا ہے۔

اس سے قبل گیم صارفین کو فیس بُک سے لاگ ان کرنے میں دشواریاں پیش آنے لگیں اور فیس بُک پیج پر شکایت تبصروں کی صورت میں کی گئیں تو، لڈو اسٹار آفیشلز نے اسے فیس بُک کا تکنیکی مسئلہ قرار دیا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں  چائنہ کی مقبول ترین کمپنی علی بابا کے موبائل براؤزر "یو سی براؤزر” کو بھی شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی پر گوگل پلے اسٹور سے30 دن کے لیئے نکال دیا گیا تھا۔

حال ہی میں لوڈو اسٹارسے متعلق ایک تنازعہ

گیم کی مشہوری کے ساتھ ہی اس کے بارے میں ایک تنازعہ سر اٹھانے لگا کہ یہ گیم بھارتی خفیہ ایجینسی”را” کی سازش ہے اور اس گیم کا اصل مقصد پاکستانی عوام کی معلومات اور خفیہ ڈیٹااکٹھا کرنا ہے، جبکہ ایک مذہبی طبقہ جس نے احادیث کی روشنی میں اسے سراسر حرام قرار دینا شروع کر دیا تھا۔

گزشتہ سال یہ تنازعہ تب کھڑا ہوا جب  یہ خبر سامنے آئی کہ بھارتی حکومت نے مختلف ایجنسیوں سے بے روزگاری کا حساب کرنے کے لۓ ڈیٹا لینے شروع کیئے، جن میں بنیادی توجہ کا مرکز آن لائن گیم ایپلی کیشنز لوڈو سٹار پر تھی۔

چونکہ یہ گیم بھارتی گیم ڈویلپرز گیمیری لیبز کی طرف سے تیار کی گئی ہے، اس لیئے اس گیم کو استعمال کرنے والے تمام صارفین کے ڈیٹا تک بھارتی حکومت کو رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

کیا یہ واقعی راء کی سازش تھی؟

آئی او ایس (آئی فون) یا اینڈرائیڈ کی ہر ایپلیکیشن کوڈنگ پر مشتمل ہوتی ہے۔ کوئی بھی ایپ ڈیویلپر اگر کسی ایپلیکیشن کو تیار کرکےگوگل پلے اسٹور یا آئی فون ایپ اسٹور پر جمع کرواتا ہے تو اسے فوراً منظور نہیں کر دیا جاتا، بلکہ اُس ایپ یا گیم کا پورا جائزہ لیا جاتا ہے، اس کی کوڈنگ تک جانچی جاتی ہے کہ کہیں یہ موبائل یا ٹیبلٹ کو وائرس زدہ تو نہیں کر دے گی؟ کہیں یہ ہیکنگ کی طرف لے جانے والا ذریعہ تو نہیں کہ جو بھی انسٹال کرے وہ ہیکرز کی زد میں آ جائے، کہیں یہ اپنے مقصد سے تو نہیں ہٹ جائے گی یعنی جمع کرواتے وقت اس کی جو تفصیل اس کے بنانے والے نے لکھی ہے یہ اس تفصیل کے برعکس تو نہیں۔۔اس کے بعد ہی ایپس یا گیمز کو اپروو کیا جاتا ہے۔

صارفین کے ڈیٹا تک رسائی

بہت سی مقبول ترین ایپلی کیشنز بھی اس بات کی اجازت لیتی ہیں کہ اُن ایپس کو استعمال کرنے کے لیئے کیمرا، مائیک اور زاتی ڈیٹا تک رسائی کو قبول کیا جائے جن میں فیس بک، ٹویٹر، ٹریو کالر جیسی ایپس شامل ہیں۔

ایسی پرمیشنز کا اصل مقصد ضروری نہیں کے صارفین کے ڈیٹا کو حاصل کرنا ہو، پر ایسا کیا جا سکتا ہے۔

کبھی کسی ملک میں سیکیورٹی وجاہات کی بنا پر فیس بک جیسی سماجی رابطے کی ویبسائیٹس سے ان عوامل کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیئے درخواست بھی کی جاتی ہے جو کسی غلط سرگرمی میں ملوث ہوں۔

اس بات کو سمجھنا  ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر کچھ بھی فری نہیں ہے، ہر چیز قیمت کے ساتھ آتی ہے یعنی ہماری رازداری کی قیمت پر.

loading...
یہ بھی ضرور پڑھیں